لاغر اور کمزور جسم بنے گا پہلوانوں کی طرح مضبوظ بنائیں بس ایک بار یہ پی لیں!

کمزور جسم

جسم میں کمزوری کیلئے بہترین نعمت ہے۔۔۔ اس میں بڑی مقدار میں قوت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں مثلاًوٹامن اے،بی ون،بی ٹو، بی سی، کے علاوہ کیلشیم، میگنیشم، پوٹاشیم، سوڈیم، تانبا، لوہا، فاسفورس، سلفر اور لحمیات وغیر ہ کھجور کی کثیر النافع خصوصیات کی بنا پر نبی کریم ﷺ اس سے روزہ افطار کرنا پسند کرتے تھےکھجورانتہائی قدیم پھل ہے۔ مورفین نے 8000سال قبل مسیح میں عراق کی سرزمین پر اس کی موجودگی کا تذکرہ کیا ہے۔

یہ گرم ممالک کا پھل ہے اس کے وطن خلیج فارس کے نواحی علاقے ایران، عراق،افریقہ اور عرب تصور کئے جاتے ہیں ان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کے علاقوں کی کھجوریں اپنی پیدا اور لذت اور شرینی کے لحاظ سے مشہور ہیں۔کھجور کی لاتعداداقسام ہیں مگر اس کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس سے شکر کے ساتھ ایک کیمیائی جوہر(Invertas) پایا جاتا ہے جو شکر کو ایسی مٹھاس میں تبدیل کر دیتا ہے جسے جسم بآسانی قبول کر لیتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا اسے Fructosکہتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی مشہور عجوہ اور برفی کھجوروں میں یہ جوہر پایاجاتا ہے۔ کھجور کی ایک قسم گٹھلی کے بغیر بھی ہے۔تنومند ہیروز اور سکس پیکایبز کے اس دور میں

اگر آپ پچکے گال اور پتلے بازو لیے پھر رہے ہیں تو سارا ملبہ قسمت، موروثیتیا پھر کسی اور چیز پر مت ڈالیے کیونکہ اس میں سب سے بڑا حصہ خود آپ کا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا وزن بڑھے، پچکے گال بھر جائیں، پتلے بازو ’ڈولوں‘ میں بدل جائیں اور صرف موٹے ہی نہ ہوں بلکہ صحت مند بھی رہیں تو آئیے ہم آپ کو کچھ ایسی باتوں اور چیزوں کے بارے میں بتاتے ہیںجن کو اپنا کر آپ واقعی کچھ سے کچھ بن سکتے ہیں۔ ایک مشکل چیلنج باقاعدگی سے ورزش کرنے اور مناسب غذا لینے سے وزن کم کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آپ کا وزن کم ہو اور آپ اسے بڑھانا چاہتے ہوں۔ انڈر ویٹ افراد کو وزن بڑھانے کے لیے روز مرہ معمولات اور کھانے پینے میں

کچھ تبدیلیاں کرنا بہت ضروری ہے۔ انہیں کیلوریز اور صحت مند اجزا پر مشتمل خوراک لینی چاہیے۔ ان کی مقدار کا استعمال جسم کی ضرورت کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ ان کو ایسی خوراک لینی چاہیے جو پروٹین، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہو۔ خوراک کی ترتیب کم وزن والے افراد کو دن کے تین مرتبہ کھانے کی ترتیب سے ہٹ کر بھی کھانا چاہیے، اس کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ تین وقت کے کھانے کی مقدار کچھ کم کر کے ان کی تعداد کو بڑھا کر چھ کر لیا جائے اور ہر دو سے تین گھنٹے بعد کھایا جائے۔ کیلوریز لینا وزن بڑھانے کا سب سے آسان راستہ ہے اور کوئی بھی ایسا بندہ جس کا وزن کم ہو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ زیادہ کیلوریز جنک فوڈ، پیزا، برگرز اور میٹھی مشروبات سے حاصل کی جا سکتی ہیں

تاہم یاد رہے کہ یہ چیزیں آپ کو صرف موٹا کرتی ہیں۔ اگر ساتھ تندرست بھی رہنا ہے تو بات یہیں تک نہیں رہے گی کچھ اور بھی کرنا پڑے گا جن کا ذکر آگے آئے گا۔ بھوک برقرار رکھیں آپ کو بھوک رہے گی تو آپ کھا پائیں گے، اس لیے کھائیں اور بھوک برقرار بھی رکھیں اگر آپ کا ہدف پٹھوں کی مضبوطی ہے تو کیلوریز لیجیے، ایسی خوراک لیں جو پروٹین سے بھرپور ہو، کاربوہائیڈریٹس بھی لیں، سنیکس کھائیں، اس سے آپ کو بھوک کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ کیا کھانا ہے کیا نہیں؟ روٹی، اناج، چاول، ان چھنا خالص آٹا، دلیہ اور خمیر کے بغیر گندھا ہوا خالص آٹا، یہ تمام چیزیں کاربوہائیڈریٹس کا ذریعہ ہیں، ان کے باقاعدگی سے استعمال سے صحت مند وزن بڑھایا جا سکتا ہے۔ پھل، سبزیاں صحت مند جسم کے لیے پھلوں اور سبزیوں کی اہمیت مسلمہ ہے اس لیے

ان دونوں چیزوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا بہت ضروری ہے۔ پھلوں میں سیب، امرود، انگور، املوک کے ساتھ ساتھ تمام موسمی پھل کھانے چاہییں جبکہ سبزیوں کے حوالے سے بھی یہی ہے کہ زیتون، آلو، مٹر، مکئی اور امریکی کدو کے علاوہ دوسری موسمی سبزیوں کو خوراک میں شامل کریں۔ گوشت اور دودھ گوشت، چکن، مچھلی، خشک پھلیاں، انڈے اور گری دار میوے بھی لیں۔ ڈیری اشیا جیسے دودھ، دھی اور پنیر کا استعمال کریں کیونکہ یہ کیلشیئم اور کیلوریز سے بھرپور ہوتی ہیں۔ سُوپس اور ساسز میں پانی کی جگہ دودھ استمال کریں۔ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اپنے جسم کو ہائیڈریٹڈ رکھیں یعنی پانی کی کمی نہ ہونے دیں کیونکہ صحت کے معاملے پانی میں کا اہم کردار ہے،

پانی کے زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ جوسز، دودھ اور سوپ کا استعمال بھی آپ کے لیے بہتر ہے۔ خیال رکھیے کہ کھانے سے قبل پانی نہ پیجیے کیونکہ اس سے آپ کی بھوک متاثر ہو سکتی ہے اور کیلوریز لینے کی صلاحیت اور طلب بھی کم ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ کم کھانے کی صورت میں ہی نکلے گا، آگے وہی ہو گا کہ آپ کے جسم کو کم قوت ملے گی۔ ورزش اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ غذائیت سے بھرپور کھانا کھاتے رہیں گے اور آپ کا وزن بڑھ جائے گا جبکہ آپ ہر لحاظ سے تندرست رہیں اور ورزش کی کوئی ضرورت نہیں، تو ایسا نہیں ہے ورزش بہرحال بہت ضروری ہے۔ آپ کو ایسا طریقہ کار اپنانا پڑے گا کہ ساتھ ساتھ ورزش بھی چلتی رہے ضروری نہیں کہ وہ بہت سخت ورزش ہو تاہم

جسم میں حرکت اور حرارت پیدا کرنا اس خوراک کو ہضم کرنے کے بھی بہت ضروری ہے جو آپ اپنا وزن بڑھانے کے لیے کھا رہے ہیں۔ یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ جن عضلات کی ورزش آپ نے کی ہے اگلے روز دوسرے عضلات کی کریں۔ اسی طرح اگر دوڑ بھی آپ نے اپنے ورزش کے پروگرام میں شامل کر لی ہے تو یاد رکھیے کہ میراتھن کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ روزانہ ورزش کریں بلکہ ہفتے میں ایک یا دو روز مختص کریں۔ مناسب نیند کھانے اور کرنے کے کاموں کے علاوہ ایک اور بھی ہے جو آپ کے وزن بڑھنے کے خواب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور وہ ہے نیند۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ

کم سے کم آٹھ گھنٹے تک لازمی سوئیں، اس سے کم نیند آپ کے گول کو آپ سے دور کر سکتی ہے اور اسی طرح تھری آرز کے اصول کو بھی اپنائیں، ری فیول، ریسٹ اور ریکوری، صرف ایک مہینہ ہی اس معمول کے مطابق چل لیا جائے تو جسم میں کافی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں